بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 67

اولاد سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا ہے کہ بچے اکثر سوال کرتے ہیں کہ جب ہم اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوئے تو خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی ہم پر کیوں لازم ہے؟ نیز لکھا کہ دعائے قنوت میں جو یہ فقرہ ہے کہ ”ہم چھوڑتے ہیں تیرے نافرمان کو “ تو کیا اس سے مراد نافرمان اولاد اور افراد جماعت بھی ہو سکتے ہیں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں ان سوالات کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ ایک بچہ کو اس کے والدین کی خواہش کے مطابق پیدا کرتا ہے۔پھر والدین کو نصیحت کرتا ہے کہ اولاد کے نیک اور صالح ہونے کے لئے دعا کرو اور اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دعا بھی سکھائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دے کر اسے سوچنے کے لئے ذہن اور زندگی گزارنے کے لئے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔پھر اسے اچھے اور بُرے کی پہچان کروا کر آزاد چھوڑ دیا اور اسے کہا کہ اگر اس دنیا کی عارضی زندگی میں اچھے کام کرو گے تو آخرت کی دائمی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے مختلف قسم کے انعامات کے وارث قرار پاؤ گے لیکن اگر بُرے کام کرو گے تو شیطان کے قبضہ میں چلے جاؤ گے جس کی وجہ سے ایک تو قسما قسم کے ان انعامات سے محروم رہو گے اور دوسرا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے جن روحانی بیماریوں کا شکار ہو گے ان کے علاج کے لئے اخروی زندگی کی جہنم میں جو کہ وہاں کا ہسپتال ہے طرح طرح کے تکلیف دہ علاجوں سے گزارنا پڑے گا۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ اور شیطان کے جس مکالمہ کو ہمارے لئے بیان کیا ہے اس میں بھی یہی مضمون ہے کہ جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں انسانوں کو تیری راہ سے بہکاؤں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے تیری بات ہر گز نہیں مانیں گے اور میں اپنے ان بندوں کو جنت جیسے انعامات سے نوازوں گا اور جو تیری بات مانیں گے تو میں ان سے جہنم کو بھروں گا۔67