بنیادی مسائل کے جوابات — Page 582
یعنی عورت کی نماز اپنے کمرہ میں اپنے گھر سے بہتر ہے اور اپنی کو ٹھڑی میں اس کی نماز اپنے کمرہ میں نماز سے بہتر ہے۔اسی طرح ایک اور روایت میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے: لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ - (صحيح بخاري كتاب الاذان) یعنی اگر نبی کریم ا م کے سامنے یہ صورتحال ہوتی جو عورتوں نے اب نئی پیدا کرلی ہے تو آپ ان کو مسجد آنے سے ضرور روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔پس احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے گھروں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر اور افضل ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ گھروں میں بھی صحن یا کھلی جگہ جہاں پر لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے وہاں وہ نماز نہ پڑھے۔گویا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے حجرے میں نماز پڑھے۔کجایہ کہ اسے یہ کہا جائے کہ مسجد میں جاکے نماز پڑھو۔اس لئے عورت کے لئے گھر میں نماز پڑھنا بہر حال بہتر ہے اور اس کے لئے مسجد میں جانا ضروری نہیں ہے۔اُس زمانہ میں چونکہ عورتیں مردوں کے پیچھے نماز پڑھتی تھیں۔مرد آگے ہوتے تھے اور ان کے لئے آجکل کی طرح باقاعدہ کوئی Enclosure تو ہوتا نہیں تھا اس لئے ہو سکتا ہے کہ مرد آتے جاتے عورتوں کو دیکھ لیتے ہوں تو اس وجہ سے بھی انہیں گھروں میں نماز پڑھنے کی تلقین کی گئی۔اس صورت میں ایسی احادیث اگر چہ اُس زمانہ کے لحاظ سے تھیں لیکن آجکل بھی عور توں کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ مسجدوں میں جانے کی بجائے اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔کیونکہ پہلے بیان کردہ دو احادیث واضح طور پر اس کی تائید کرتی ہیں کہ عورتیں گھروں میں نماز پڑھیں۔(قسط نمبر 8، الفضل انٹر نیشنل 05 فروری 2021ء صفحہ 12) 582