بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 583

نماز تسبیح (صلاة التسبیح) سوال: مکرم انچارج صاحب عربک ڈیسک یوکے کے ایک استفسار بابت صلاۃ التسبیح کے متعلق رہنمائی کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 19 جولائی 2020ء میں ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: علمائے سلف میں صلاۃ التسبیح کے متعلق مروی احادیث پر دونوں قسم کی آراء موجودہ ہیں، کچھ نے ان احادیث کو قابل قبول قرار دیا ہے اور کچھ نے ان احادیث کی اسناد پر جرح کرتے ہوئے انہیں موضوع قرار دیا ہے۔اسی طرح ائمہ اربعہ میں بھی اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔حضرت امام احمد بن حنبل اس نماز کو مستحب کا درجہ بھی نہیں دیتے جبکہ دیگر فقہاء اسے مستحب قرار دیتے ہیں اور اس کی فضیلت کے بھی قائل ہیں۔صلاۃ التسبیح کی بابت مروی احادیث سے یہ بات تو قطبیعت کے ساتھ ثابت ہے کہ حضور ا ہم نے خود اس نماز کو کبھی ادا نہیں کیا اور نہ ہی خلفائے راشدین سے اس نماز کے پڑھنے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔اسی طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے مبعوث ہونے والے حضور الم کے غلامِ صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اس نماز کے پڑھنے کی کوئی روایت ہمیں نہیں ملتی۔لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ نماز پڑھنا چاہتا ہے تو پھر ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کو پیش نظر رکھنا چاہیے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص ایک ایسے وقت میں نماز پڑھ رہا تھا جس وقت نماز پڑھنا جائز نہیں۔اس کی شکایت حضرت علی کے پاس ہوئی تو آپ نے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا۔أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهِي عَبْدًا إِذَا صَلَّی یعنی تُو نے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔باقی جہاں تک فقہ احمدیہ کی عبارت کا تعلق ہے تو فقہ احمدیہ میں کئی ایسی باتیں شامل ہو گئی ہیں جن کی تصحیح کی ضرورت ہے۔اسی لئے فقہ احمدیہ کی نظر ثانی کروائی جارہی ہے۔جب فقہ احمد یہ کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن شائع ہو گا تو انشاء اللہ اس عبارت کو بھی ٹھیک کر دیا جائے گا۔(قسط نمبر 25، الفضل انٹر نیشنل 24 دسمبر 2021ء صفحہ 11) 583