بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 438

فیس پینٹ (Face Paint)، ٹیٹوز (Tattos) سوال: گلشن وقف نو ناصرات کینیڈا جولائی 2012ء میں ایک بچی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ ایک دفعہ میں نے مینا بازار میں دیکھا تھا کہ مہندی کے سٹال پر Signs تھے کہ وہ منہ پر Face Paint کرتے ہیں اور Tattoos بھی لگاتے ہیں۔تو کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟ اس پر حضور انور نے ارشاد فرمایا: جواب: جو Tattoos لگاتے ہیں اور Face Paint کرتے ہیں، وہ غلط کرتے ہیں۔مہندی کے سٹال پر صرف مہندی ہونی چاہیئے۔اگر لجنہ کی صدر نے یہ اس طرح رکھا ہوا تھا تو بالکل غلط کیا ہوا تھا۔منہ پہ بھی مہندی لگا دو، پاگل بنا دو، کارٹون بنا دو۔اللہ تعالیٰ نے انسان بنایا ہے۔تم اس کو جانور بنا دو۔مہندی کا جو سٹال ہے، اس پہ مہندی صرف ہاتھ پہ لگالو (اس موقعہ پر حضور انور نے ہاتھ کی سیدھی اور الٹی طرف نیز کلائی تک اشارہ کر کے فرمایا کہ) یہاں تک لگالو، جو تم عورتوں کا سنگھار ہے، اس میں جائز ہے۔لیکن منہ پہ مہندی لگانا یا Tattooing کروانا اسلام میں منع ہے۔اس موقعہ پر حضور انور نے صدر صاحبہ لجنہ کینیڈا سے بھی جواب طلبی فرمائی کہ ایسا کیوں کیا ہوا تھا۔اور پھر ان کے جواب پر حضور انور نے مزید فرمایا) Face Painting کس لئے رکھی تھی ؟ نہیں ہونی چاہیئے۔یہاں وہ جو جن بھوت بناتے ہیں، وہ آپ نے بنانا تھا۔(صدر صاحبہ کے عرض کرنے پر کہ تبلیغ کے لئے کیا تھا، حضور انور نے فرمایا) تبلیغ کے لئے کیا تھا، تو تبلیغ کے لئے صرف Face Painting ہی رہ گئی ہے۔چہرے بگاڑنے کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔اسلام نے اس کا بڑا واضح طور پہ حکم دیا ہوا ہے۔نئی نئی رسمیں نہ پیدا کریں۔رسمیں تو آپ لوگ پیدا کر رہے ہیں، بدعات تو آپ لوگ لجنہ والے پیدا کر رہے ہیں۔تو اصلاح آپ نے کیا کرنی ہے؟ اسی طرح نیکی کے نام پر بدعات اندر گھستی ہیں۔حضرت آدم کو جو شیطان نے بھٹکا یا تھا، یہ نہیں کہا تھا کہ تم یہ کرو تو اس سے بڑا لطف اٹھاؤ گے۔پہلے اس نے نیکی کی بات کر کے کہا تھا کہ یہ کرو، یہ بڑی نیکی ہے اور تم ہمیشہ کے لئے نیک بن جاؤ گے۔شیطان نے آدم کو اسی طرح بھٹکایا 438