بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 410

رض پر مشتمل ہو اور ( ہر گواہی میں) وہ یہ کہے کہ وہ راست بازوں میں سے ہے۔اور پانچویں (گواہی) میں (کہے) کہ اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔اور اس بیوی سے (جس پر اس کا خاوند الزام لگائے ) اس کا اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیاں دینا کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے عذاب دور کر دے گا۔اور پانچویں (قسم) اس طرح (کھائے) کہ اللہ کا غضب اس (عورت) پر نازل ہو اگر وہ (الزام لگانے والا خاوند) سچا ہے۔اسی طرح حدیث میں بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ نے صرف ایک عورت کی گواہی پر کہ اس نے ایک شادی شدہ جوڑے میں سے لڑکے اور لڑکی دونوں کو دودھ پلایا تھا، ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔چنانچہ حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا۔اس کے بعد ایک عورت نے آکر بیان کیا کہ میں نے عقبہ کو اور اس عورت کو جس سے عقبہ نے نکاح کیا ہے دودھ پلایا ہے ( پس یہ دونوں رضائی بہن بھائی ہیں، ان میں نکاح درست نہیں) عقبہ نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تُو نے (اس سے) پہلے کبھی اس بات کی اطلاع دی ہے۔پھر عقبہ سواری پر سوار ہو کر رسول الله الله یم کے پاس مدینہ گئے اور آپ سے ( یہ مسئلہ) پوچھا تو نبی الم نے فرمایا کہ اب جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے تم کس طرح اسے اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہو۔پس عقبہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔اور اس نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔(صحیح بخاري كتاب العلم بَاب الرَّحْلَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ النَّازِلَةِ وَتَعْلِيمِ أَهْلِهِ) جہاں تک قرض کے لین دین میں مرد اور عورت کی گواہی کا تعلق ہے تو عموماً ایسے معاملات کا چونکہ مردوں سے تعلق ہوتا ہے اور عورتوں سے براہ راست تعلق نہیں ہو تا، اس لئے ہدایت فرمائی کہ اگر ان معاملات میں گواہی کے لئے مقررہ مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو رکھا جائے کہ اگر گواہی دینے والی عورت اپنی گواہی بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔گویا اس میں بھی گواہی ایک عورت کی ہی ہے، صرف اس کے ان معاملات سے عموماً تعلق نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بھول جانے کے اندیشہ کے پیش نظر احتیاطاً دوسری عورت اس کی مدد کے لئے اور اسے بات یاد کرانے کے لئے رکھ دی گئی ہے۔قرآن کریم کا منطوق بھی اسی مفہوم 410