بنیادی مسائل کے جوابات — Page 409
سوال: جرمنی سے ایک دوست نے، قرض کا لین دین کرتے وقت گواہ ٹھہرانے کے بارہ میں سورۃ البقرۃ کی آیت کی روشنی میں عورت کی گواہی کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی چاہی؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 21 ستمبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: مخالفین اسلام کی طرف سے اسلامی تعلیم پر جو بڑے بڑے اعتراضات کئے جاتے ہیں، ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے مرد کے مقابلہ پر عورت کی گواہی کو آدھار کھ کر گویا عورت کو کمتر قرار دیا ہے۔لیکن یہ اعتراض بھی دیگر اعتراضات کی طرح اسلامی تعلیمات کی حقیقت اور اس کی روح کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بلا وجہ گھڑا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ مرد کے مقابلہ پر عورت کی گواہی نصف ہے۔بلکہ اگر قرآن کریم پر غور کیا جائے تو جن امور کا عورت سے براہ راست تعلق ہے، ان میں جس طرح مرد کی گواہی کو قبول کیا گیا ہے اسی طرح عورت کی گواہی کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔چنانچہ سورۃ النور میں میاں بیوی کے درمیان لعان کی صورت میں جو گواہی کا طریق بیان کیا گیا ہے اس میں عورت اور مرد دونوں کی گواہی اور قسم میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا بلکہ دونوں کا بالکل ایک ہی نتیجہ نکالا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ الَّذِينَ يَرْمُونَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ لا فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهْدَتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ وَيَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهْدَتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَذِبِينَ - وَ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصُّدِقِينَ (سورة النور: 7 تا 10) ترجمہ: اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے اپنے وجود کے اور کوئی گواہ نہیں ہو تا تو ان میں سے ہر شخص کو ایسی گواہی دینی چاہیے جو اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیوں 409