بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 411

کی تائید فرما رہا ہے۔چنانچہ فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّي۔وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلُّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرِي (سورة البقرة: 283) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ایک معین مدت تک کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔۔۔اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرالیا کرو۔اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔(یہ) اس لئے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔پس قرض کے لین دین کے معاملات میں بھی عورت ہو یا مرد، دونوں کی گواہی کی حیثیت اور اہمیت برابر ہی ہے لیکن چونکہ مالی لین دین کے معاملات کا تعلق عموماً عورتوں سے نہیں ہوتا اس لئے گواہی دینے والی عورت کی مدد کے لئے کہ اگر وہ اس لین دین کی تفصیل بھول جائے تو اسے یہ معاملہ یاد کروانے کے لئے ایک دوسری عورت کو بھی ساتھ رکھنے کی تاکید فرما دی تاکہ کسی گواہ کے بھول جانے سے لین دین کرنے والے فریقین میں سے کسی کی حق تلفی نہ ہو سکے۔(قسط نمبر 44، الفضل انٹر نیشنل 2 دسمبر 2022ء صفحہ 10) 411