بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 356

شارٹ سیلنگ (Short Selling) سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے Short Selling“ کے حلال و حرام ہونے کے بارہ میں رہنمائی چاہی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 مئی 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات سے نوازا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اصل میں ”Short Selling“ جلد پیسہ کمانے کا ایک آسان راستہ سمجھا جاتا ہے، جس میں بعض لوگ Shares رکھنے والے Brokers سے کچھ Shares ادھار لے کر انہیں بازار میں مہنگے داموں بیچتے اور پھر ان Shares کے سستے ہونے پر انہیں بازار سے خرید کر Brokers کو واپس کر دیتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں منافع کا ایک حصہ یہ لوگ کماتے ہیں اور ایک حصہ بطور کمیشن Broker کو دیتے ہیں۔اسلام نے جس طرح زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کی رہنمائی فرمائی ہے، تجارت میں بھی صاف اور سیدھی راہ اختیار کرنے اور کھری اور دو ٹوک بات کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔چنانچہ آنحضور لم نے تجارت کے معاملہ میں اس حد تک ہدایت فرمائی کہ اگر تمہارے مال میں کوئی نقص ہو تو اسے مت چھپاؤ بلکہ واضح طور پر گاہک کو اس نقص سے آگاہ کرو۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا) ماپ تول کو پورا رکھو ، اس میں کسی قسم کی کمی نہ کرو۔اور جب تک خریدا ہوا مال اپنے قبضہ میں نہ لے لو اسے آگے فروخت مت کرو۔(صحيح بخاري كتاب البيوع باب الكيل علي البائع والمعطي) پس ہر کاروبار پوری طرح تحقیق کر کے کرنا چاہیئے تا کہ نہ انسان خود دھو کہ کھائے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو دھو کہ دے۔Short Selling “ کے کاروبار میں کمپنیوں کی سطح پر بھی اور " انفرادی طور پر بھی خریدار کو دھو کہ دیا جا رہا ہوتا ہے اور جن Shares کی قیمت گرنے والی ہوتی ہے انہیں اس نیت سے فروخت کیا جاتا ہے کہ چند دن بعد جب ان Shares کی قیمت گرے گی تو انہیں سستے داموں خرید کر اصل مالک کو Shares واپس کر دیئے جائیں گے۔گویا اس بات کا 356