بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 320

سوال: ایک دوست نے مسافر کے لئے رمضان کے روزوں کی رخصت کے بارہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بعض ارشادات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کر کے ان کی باہم تطبیق کی بابت رہنمائی چاہی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 11 جون 2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ کے خط میں بیان دونوں قسم کے ارشادات میں کوئی تضاد نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ دونوں ہی کا قرآن کریم کے واضح حکم کی روشنی میں یہی ارشاد ہے کہ مسافر اور مریض کو روزہ نہیں رکھنا چاہیئے۔اور اگر کوئی شخص بیماری میں یا سفر کی حالت میں روزہ رکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے واضح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔66 جہاں تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد ”روزہ میں سفر ہے۔سفر میں روزہ نہیں، کا تعلق ہے تو اگر اس سارے خطبہ کو غور سے پڑھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضور دراصل اس میں مختلف مثالیں بیان فرما کر سمجھا رہے ہیں کہ ایسا سفر جو باقاعدہ تیاری کے ساتھ ، سامان سفر باندھ کر سفر کی نیت سے کیا جائے وہ سفر خواہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اس میں شریعت روزہ رکھنے سے منع کرتی ہے۔لیکن ایسا سفر جو سیر کی غرض سے یا کسی Trip اور Enjoyment کے لئے کیا جائے ، وہ روزہ کے لحاظ سے سفر شمار نہیں ہو گا اور اس میں روزہ رکھا جائے گا۔چنانچہ سفر میں روزہ رکھنے کے بارہ میں آپ کے دیگر ارشادات بھی آپ کے اسی نظریہ کی تائید کرتے ہیں۔(قسط نمبر 11، الفضل انٹر نیشنل 12 مارچ 2021ء صفحہ 11) 320