بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 321

سوال: روزہ کے دوران کو رونا ویکسین کا انجیکشن لگوانے کے جواز کی بابت ایک غیر از جماعت ادارہ کے فتویٰ کی الفضل انٹر نیشنل میں اشاعت پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 اپریل 2021ء میں اس شرعی مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: ایسی خبریں اور فتوے الفضل میں شائع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اور اگر کسی وجہ سے اسے شائع کرنا ناگزیر تھا تو ساتھ ہی جماعتی مسلک بھی شائع کرنا چاہیے تھا کہ یہ فلاں ادارہ کا فتویٰ ہے۔جبکہ جماعتی مسلک اس کے بر عکس ہے۔تا کہ آپ کا یہ خبر نامہ پڑھ کر کسی کو غلطی نہ لگتی۔بہر حال فوری طور پر اب اس کی تردید شائع کریں اور اس میں صاف صاف جماعتی مسلک درج ا کریں کہ روزہ کی حالت میں ہر قسم کا انجیکشن خواہ وہ Intramuscular ہو یا Intravenous ہو لگوانا منع ہے۔اور اگر کسی احمدی کو کو رونا ویکسین کی Appointment رمضان میں ملتی ہے تو اسلام نے جو رخصت دی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انجیکشن والے دن روزہ نہ رکھے۔اور رمضان کے بعد اس روزہ کو پورا کر لے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو احادیث نبویہ الم سے استدلال فرماتے ہوئے روزہ کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانے کی بھی اجازت نہیں دی۔اور آپ الفضل میں اس فتویٰ کے مطابق انجیکشن کو بھی جائز قرار دے رہے ہیں۔(قسط نمبر 34، الفضل انٹر نیشنل 20 مئی 2022ء صفحہ 11) 321