بنیادی مسائل کے جوابات — Page 258
جنت کی خوروں کا معاملہ بھی تمثیلی کلام پر مبنی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے چار جگہوں پر حوروں کا ذکر فرمایا ہے۔پہلی دو جگہ (سورۃ الدخان اور سورۃ الطور ) میں فرمایا کہ ہم جنتیوں کو بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی حوروں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھ دیں گے۔اور باقی دو جگہ (سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ میں ان خوروں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ خیموں میں محفوظ یاقوت و مرجان موتیوں کی طرح ہوں گی۔یعنی شرم و حیا سے معمور، نیک، پاکباز، خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔پس قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوروں سے مراد نیک اور پاک جوڑے ہیں جو جنت میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں بندھے ہوں گے اور انہیں بطور انعام ملیں گے۔ان جوڑے کی کیفیت کیا ہو گی ؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔انسان کو اس کا علم اُسی وقت ہو گا جب وہ جنت میں جائے گا۔باقی جہاں تک اس بارہ میں قرآنی تفاسیر کا تعلق ہے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ البقرۃ کی آیت وَ لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجُ مُطَهَّرَةُ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنتیوں کو وہاں پاک ساتھی یعنی پاک بیویاں اور پاک خاوند ملیں گے جو ایک دوسرے کی روحانی ترقی میں مدد کرنے والے ہوں گے۔اس لئے اس دنیا کے میاں بیوی اگر اگلے جہان میں بھی اکٹھا رہنا چاہتے ہیں تو مرد کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنی بیوی کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیئے اور عورت کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنے خاوند کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیئے اور دونوں کو ایک دوسرے کو نیک بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے تا کہ ایسا نہ ہو کہ میاں جنت میں ہو اور بیوی دوزخ میں ہو یا بیوی جنت میں ہو اور میاں دوزخ میں ہو۔(ملخص از تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 252) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سورۃ الدخان کی آیت وَ زَوَّجْنُهُمْ بِحُوْرِ عِيْنٍ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم ان کی ازواج کو حور بنا دیں گے اور انہیں ازدواجی رشتہ میں باندھیں گے۔پھر اس سے اگلی آیت میں فرمایا کہ ہم ان کے ساتھ جنت میں ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے۔اس جگہ بیوی کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ زَوَّجْنَهُمْ بِحُورٍ عِيْنِ پہلی آیت میں آچکا ہے۔حضرت نبی کریم ﷺ نے ایک بڑھیا سے کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تو اس نے 258