بنیادی مسائل کے جوابات — Page 228
سوال: ایک خاتون نے حدیث نبوی ال " لا عدوي وَ لا طِيَرَةً، إِنَّمَا القُوْمُ فِي ثلاثٍ فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ “ کے پہلے حصہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تشریح کا ذکر کر کے اس حدیث کے دوسرے حصہ یعنی گھوڑے، عورت اور گھر میں نحوست کے ہونے کے بارہ میں کئے جانے والے اعتراض کے ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اس حدیث کی وضاحت چاہی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 29 مئی 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل رہنمائی عطا فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: شارحین حدیث نے اس حدیث کی مختلف تشریحات بیان کی ہیں۔چنانچہ ابن عربی کہتے ہیں کہ حدیث میں ان چیزوں کا محوست کے ساتھ جو حصر کیا گیا ہے وہ ان کی تخلیق کے لحاظ سے نہیں بلکہ ان کی صفت کے لحاظ سے ہے۔پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں نحوست ہو سکتی ہے تو وہ ان تین چیزوں میں ہو سکتی ہے۔اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس عورت کے ہاں اولاد نہ ہو اور جو گھوڑا جنگ میں استعمال نہ ہو اور جس مکان کا ہمسایہ بُرا ہو تو یہ ان چیزوں کی نحوست ہے۔ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ نحوست کا اعتقاد رکھتے تھے ، چنانچہ حضور ا ہم نے انہیں اس سے منع فرمایا اور انہیں بتایا کہ نحوست کوئی چیز نہیں۔اس کے باوجود ان تین چیزوں کی نحوست کے وہ قائل رہے۔(فتح الباري شرح صحيح بخاري كتاب الجهاد و السير باب مَا يُذْكَرُ مِنْ شُؤْمِ الْفَرَسِ) اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں حضور تم نے اپنا موقف بیان نہیں فرمایا بلکہ اس زمانہ کے لوگوں کا اعتقاد بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اس نظریہ کی تائید حضرت عائشہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جس میں حضرت عائشہ سے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ حضور ا نے فرمایا کہ گھوڑے، عورت اور گھر میں نحوست ہوتی ہے۔اس پر ایک روایت 228