بنیادی مسائل کے جوابات — Page 227
سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار کیا کہ میں نے سنا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پہلا سپاہی جس نے قسطنطنیہ میں قدم رکھا جنت میں جائے گا، کیا یہ درست ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 دسمبر 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ نے آنحضور الم کو امن و آشتی اور پیار محبت کی تعلیم کے ساتھ دنیا میں مبعوث فرمایا۔لیکن جب مخالفین اسلام اپنی مخالفت میں حد سے گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی جو ابا جہاد کی اجازت دی۔(سورۃ الحج: 40) جس کے تحت مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی بدولت جہاں مسلمانوں پر حملہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا وہاں مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایسے علاقوں اور ممالک پر بھی چڑھائی کی جن میں مسلمانوں کی پر امن جماعت کو ملیا میٹ کرنے کے لئے سازشیں تیار کی جاتیں اور دوسرے قبائل اور علاقوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر آنحضور ﷺ نے ظلم و بربریت کے خلاف لڑی جانے والے ان جنگوں میں مسلمانوں کی فتح و ظفر کے ساتھ کامیابیوں کی کئی پیشگوئیاں فرمائی ہیں۔ان میں سے ایک پیشگوئی بھی تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ( اس زمانہ کی دو بڑی طاقتوں قیصر اور کسریٰ میں سے) قیصر ( کی عیسائی حکومت) کے شہر کے خلاف میری اُمت کے جو لوگ جنگ کے لئے نکلیں گے وہ جنتی ہوں گے۔(بخاري كتاب الجهاد و السير) اسی طرح ایک اور جگہ حضور الم نے فرمایا کہ قسطنطنیہ کو فتح کرنے والا لشکر اور اس کا امیر کیا ہی اچھا لشکر اور کیا ہی اچھا امیر ہو گا۔(مسند احمد بن حنبل ، حدیث نمبر 18189) ان دونوں احادیث میں مذکورہ پیشگوئی بھی آنحضور الم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی دیگر الہی پیش خبریوں کی طرح اپنے وقت پر پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔(قسط نمبر 29، الفضل انٹر نیشنل 25 فروری 2022ء صفحہ 10) 227