بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 229

کے مطابق حضرت عائشہ شدید ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ حضور الم نے ہر گز ایسا نہیں فرمایا بلکہ حضور اللم نے فرمایا تھا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ ان تین چیزوں کو نحوست کا باعث خیال کرتے تھے۔(مسند احمد بن حنبل کتاب باقي مسند الانصار باب باقي المسند السابق، حدیث نمبر 24841) اور ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ نے حضرت ابو ہریرہ کی اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ نے حضور ﷺ کی بات کا صرف آخری حصہ سنا، پہلا حصہ نہیں سنا۔اصل میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے جو کہتے ہیں کہ ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔(مسند ابي داؤد الطيالسي كتاب احاديث النساء باب علقمة بن قيس عن عائشة) ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ اصل میں اس حدیث میں زمانہ جاہلیت کے نحوست کے بارہ میں غلط عقیدہ کا بطلان کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ اگر کسی کا گھر ایسا ہو جس میں وہ رہنانا پسند کرے، یا کسی کی بیوی ایسی ہو جس کی صحبت اسے ناپسند ہو یا کسی کا گھوڑا ایسا ہو جس کی سواری اسے پسند نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ان چیزوں سے الگ ہو جائے۔اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارنے والا گھوڑا، اپنے خاوند سے بے وفائی کرنے والی بیوی اور مسجد سے دور ایسا گھر جہاں اذان کی آواز نہ پہنچے نحوست کا باعث ہیں۔(فتح الباري شرح صحيح بخاري كتاب الجهاد والسير باب مَا يُذْكَرُ مِنْ شُوْمِ الْفَرَسِ) بہر حال یہ مختلف تشریحات ہیں جو شارحین نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق کی ہیں۔لیکن اگر اس حدیث پر غور کیا جائے اور قرآن و حدیث میں بیان تعلیمات کو سامنے رکھا جائے تو اس حدیث کے مطلق یہ معانی کہ عورت، گھوڑا اور گھر نحوست کا باعث ہیں درست نہیں ٹھہرتے۔کیونکہ آنحضور شیم نے ان تینوں چیزوں کو پسند فرمایا اور ان کی تعریف فرمائی۔گھر اور گھوڑا حضور لیلی لیلی کے زیر استعمال رہے جبکہ عورتوں سے حضور اللہ تم کا بطور والدہ، بیوی اور بیٹی بہت گہرا تعلق رہا۔چنانچہ آنحضور ا نے عورت کے متعلق بطور ماں کے فرمایا کہ جنت اس کے قدموں تلے ہے۔(سنن نسائي كتاب الجهاد باب الرُّخْصَةُ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَةٌ) نیک بیوی کو 229