بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 224

النبوۃ کے اجراء کی صورت میں بشارت عطا فرمائی تھی۔اور چونکہ اس خزانہ کو پانے کے لئے قرآن کریم نے سب سے اول شرط ایمان اور عمل صالح قرار دی ہے، جو ان دنیاوی حکمرانوں میں مفقود ہو چکی تھی، اس لئے انہوں نے اس کے حصول کے لئے قتال یعنی جنگیں تو بہت کیں لیکن کسی کے ہاتھ وہ روحانی خزانہ نہ آیا۔اسی لئے اس حدیث میں آنحضور لم نے خزانہ کے لئے قتال کرنے والوں کے لئے صرف ”ابن خلیفہ“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔یعنی وہ خلیفہ بمعنی جانشین ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ خلیفہ یا نبوت کی بناء پر ملنے والی خلافت کے تابع خلیفہ نہیں ہوں گے۔جبکہ اسی حدیث میں حضور الم نے اس شخص کے لئے جسے یہ خلافت علی منہاج النبوۃ کا روحانی خزانہ ملنا تھا ” خلیفۃ اللہ المہدی“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اس حدیث میں مسلمانوں کے قتل و غارت کا جو ذکر ہے، آپ نے اس کے بارہ میں اپنا خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ مہدی کے ذریعہ ہو گا۔جو میرے نزدیک درست نہیں ہے۔اگر اس سے مراد ظاہری قتل و غارت اور خونریزی لی جائے تو یہ مہدی کے ذریعہ ہر گز نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے مراد حضور ایم کی ایک دوسری حدیث (مندرج مشكوة المصابيح) میں ”مُلْكًا عَاضَّا“ اور ”مُلكًا جَنرِيَّةٌ “ کے الفاظ میں بیان پیشگوئی کے مطابق ، ان ہر دو ادوار میں مسلمانوں کی آپس کی جنگوں میں ہونے والی خونریزی اور کشت وخون ہے۔نیز تیرھویں صدی میں منگولوں کے ہاتھوں ہونے والی مسلمانوں کی قتل و غارت مراد ہے۔خلیفۃ اللہ المہدی کے ذریعہ اس قتل و غارت کے وقوع پذیر نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضور ام نے آنے والے مہدی کی ایک نشانی" يَضَعُ الحزب “ یعنی وہ جنگ و جدال اور کشت و خون کا خاتمہ کر دے گا ( صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ) بیان فرمائی ہے۔پس یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو حضور ام آنے والے مہدی کو امن و آشتی کا علمبر دار قرار دے رہے ہوں اور دوسری طرف اسی کے ذریعہ امت محمدیہ کے افراد کی ایسی خونریزی کی اطلاع دے رہے ہوں جیسی خونریزی پہلے زمانوں میں کبھی کسی نہ کی ہو ؟ 224