بنیادی مسائل کے جوابات — Page 223
حدیث سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نام اپنے خط میں حضرت ثوبان سے مروی ایک حدیث کہ رسول اللہ الم نے فرمایا تمہارے ایک خزانہ کی خاطر تین شخص قتال کریں گے (اور مارے جائیں گے ) تینوں خلیفوں (حکمران) کے بیٹے ہوں گے لیکن وہ خزانہ ان میں۔یں سے کسی کو بھی نہ ملے گا۔پھر مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمو دار ہوں گے وہ تمہیں ایسا قتل کریں گے کہ اس سے قبل کسی نے ایسا قتل نہ کیا ہو گا۔اس کے بعد آپ نے کچھ اور باتیں بھی ذکر فرمائیں جو مجھے یاد نہیں، پھر فرمایا جب تم ان (مہدی) کو دیکھو تو ان کی بیعت کرو اگر چہ تمہیں برف پر گھٹنوں کے بل گھسٹ کر جانا پڑے۔کیونکہ وہ خلیفتہ اللہ المہدی ہیں۔“درج کر کے اس کے ایک حصہ کی تشریح کر کے اس بارہ میں حضور کی رائے دریافت کی۔نیز حدیث کے ایک حصہ کے بارہ میں مزید وضاحت چاہی ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 30 مئی 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: آپ نے اس حدیث کا حوالہ الْبَحْرُ الزخار سے درج کیا ہے جبکہ یہ حدیث صحاح ستہ میں سے سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی میں بھی روایت ہوئی ہے۔حدیث میں بیان کنز اور خلیفوں کے بیٹوں کے بارہ میں آپ کی بیان کردہ تشریح ایک ذوقی تشریح ہے۔میرے خیال میں اس حدیث میں آنحضور لم نے امت مسلمہ میں آئندہ زمانہ میں نمودار ہونے والے مختلف واقعات کی خبر دی ہے۔جن میں بعض واقعات دنیاوی امور سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض روحانی امور سے متعلق ہیں۔خزانہ سے مراد اگرچہ بہت سے علماء نے خانہ کعبہ کا خزانہ مراد لیا ہے، مگر وہ خزانہ تو بہت سے حکمرانوں کے ہاتھ لگا بھی ہے۔اس لئے حدیث میں مذکور خزانہ سے مراد خانہ کعبہ کا خزانہ مراد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ حدیث میں حضور ام فرمار ہے ہیں کہ وہ خزانہ ان میں سے کسی کو نہیں ملے گا۔لہذا اس سے مراد وہ روحانی خزانہ ہے جس کی آنحضور لم نے اپنے بعد خلافت علي منهاج 223