بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 225

پھر اس حدیث میں راوی کا یہ بیان کہ ”اس کے بعد حضور الم نے کچھ اور باتیں بھی فرمائیں جو مجھے یاد نہیں۔خاص توجہ کا حامل ہے۔اور بہت ممکن ہے کہ وہ امور دجال کے ظہور کے بارہ میں ہوں کیونکہ متعدد ایسی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں جن میں حضور اللم نے دجال کے فتنہ کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا اور اس کے مقابلہ کے لئے اپنی امت کو مسیح موعود کی آمد کی خوشخبری عطاء فرمائی۔راوی کے مطابق ان باتوں کے بعد حضور الم نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کا ذکر فرمایا اور ان کی بیعت کو لازمی قرار دیتے ہوئے تاکیداً فرمایا کہ اگر تمہیں برف کی سلوں سے گھٹنوں کے بل گھسٹ کر بھی جانا پڑے تو ضرور اس کی بیعت کرنا، کیونکہ وہ خلیفۃ اللہ المہدی ہے۔پس حضور ا نے اس حدیث میں تین الگ الگ زمانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک وہ زمانہ جب حضور ﷺ اور خلافت راشدہ کا مبارک دور حسب منشاء الہی اختتام پذیر ہو جائے گا۔اور اس کے بعد مسلمان آپس میں جنگ و جدال کریں گے اور اپنے ہی لوگوں کو تہہ تیغ کر کے ان کا خون بہائیں گے، اس وقت وہ روحانی خزانہ سے محروم ہو جائیں گے۔دوسرا وہ زمانہ جب مسلمانوں کے دنیاوی لحاظ سے بھی کمزور ہو جانے کی وجہ سے ان کے غیر مسلم مخالفین انہیں خونریزی کا نانہ بنائیں گے۔اور پھر تیسر اوہ زمانہ جب آنحضور الم کی بشارتوں کے مطابق امام مہدی اور مسیح محمدی کی بعثت ہو گی اور امت محمدیہ کا وہ حصہ جو حضور الم کے اس غلام صادق اور اور روحانی فرزند کی بیعت کر کے اس کی آغوش میں آجائے گا، اس کے لئے ایک مرتبہ پھر اسی تر و تازگی کا زمانہ آئے گا جس کا مشاہدہ اُمت محمدیہ نے اپنے آقا و مطاع حضرت اقدس محمد مصطفی ایم کے عہد مبارک میں کیا تھا اور اِس وقت پھر ” صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ کی نوید ان خوش نصیبوں کے لئے پوری ہو گی۔حدیث میں مندرج قتل و غارت کو اگر استعارہ کیا جائے تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس طرح صحیح بخاری میں يَضَعُ الحزب" والی حدیث میں مذکوره فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ کا حقیقی مطلب صلیب توڑنا اور سؤر مارنا نہیں۔بلکہ اس سے مراد عیسائیت کی طرف سے اسلام پر 225