بنیادی مسائل کے جوابات — Page 222
حضرت عائشہ لوگوں سے ایک طرف جدا طواف کرتیں، ان سے ملا جلا نہیں کرتی تھیں۔ایک عورت نے ان سے کہا، اُم المومنین چلیں حجر اسود کو بوسہ دیں۔انہوں نے کہا تم جاؤ اور انکار کر دیا۔عور تیں رات کو اس طرح باہر نکلتیں کہ پہچانی نہ جاتیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتیں۔البتہ جب بیت اللہ میں داخل ہونے لگتیں تو باہر ٹھہر جاتیں اور مردوں کو باہر کر دیا جاتا تو وہ اندر جاتیں۔(صحيح بخاري كتاب الحج بَاب طَوافِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ) علاوہ ازیں ابتدا میں شریعت نے حج اور عمرہ وغیرہ میں عورت کے ساتھ اس کے محرم کے ہونے کی جو شرط رکھی تھی، اس میں ایک حکمت یہ بھی نظر آتی ہے کہ حج اور عمرہ کے موقعہ پر جبکہ لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو اس ہجوم میں عورت کا محرم اس کا ہاتھ وغیرہ پکڑ کر اسے دوسرے لوگوں سے اپنی پناہ میں رکھ سکتا ہے۔(قسط نمبر 48، الفضل انٹر نیشنل 3 فروری 2023ء صفحہ 12) 222