بنیادی مسائل کے جوابات — Page 221
حج کے موقع پر عورتوں اور مردوں کا اکٹھے نماز پڑھنا سوال: امریکہ سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ انسان کو کس حد تک اسلام، قرآن کریم اور جماعت کے بارہ میں سوال اٹھانے کی اجازت ہے۔مزید یہ کہ میں نے اپنے مربی صاحب سے اسلام سے قبل سود کی حرمت کے بارہ میں، نیز حج کے موقعہ پر عورتوں اور مردوں کے اکٹھے نماز پڑھنے کے بارہ میں سوال کیا لیکن مربی صاحب نے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔اسی طرح اس دوست نے لجنہ کی حضور انور کے ساتھ ایک ملاقات میں ایک سوال پر حضور انور کے جواب کہ ”مذہب کے معاملہ میں کیوں اور کس لئے کا سوال نہیں ہے۔کا بھی ذکر کر کے اس بارہ میں حضور انور سے رہنمائی چاہی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل تفصیلی ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: خانہ کعبہ میں عورتوں اور مردوں کی نماز کے لئے الگ الگ جگہ مقرر ہوتی ہے۔اوائل اسلام میں حضور ﷺ کے عہد مبارک میں بھی عورتیں مردوں سے الگ اس طرح نماز پڑھتی تھیں کہ ان کی صفیں مسجد میں سب سے آخر پر ہوتی تھیں ، ان کے آگے بچوں کی صف ہوتی اور پھر بچوں کے آگے مردوں کی صفیں ہوتی تھیں۔اسی طرح خانہ کعبہ کے طواف کے وقت بھی اگر چہ مرد وخواتین طواف اکٹھا ہی کرتے تھے۔لیکن عورتیں مردوں سے الگ رہتی تھیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب ابن ہشام (گورنر مکہ) نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کیا تو عطاء بن ابی رباح نے اس سے کہا کہ تم انہیں کیسے روک سکتے ہو جب کہ نبی کریم اللہ وسلم کی ازواج نے مردوں کے ساتھ طواف کیا۔(ابن جریج کہتے ہیں) میں نے (عطاء سے) پوچھا، یہ بات پر دہ کی آیت نازل ہونے کے بعد کی ہے یا پہلے کی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں مجھے اپنے عقیدہ کی قسم ، میں نے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ان کو اس طرح طواف کرتے دیکھا ہے۔(ابن جریج کہتے ہیں) میں نے کہا عورتیں مردوں سے کیسے مل جل جاتی تھیں ؟ انہوں نے کہا عور تیں ملتی جلتی نہ تھیں۔221