بُخارِ دل — Page 84
84 جدائی پڑے تھے ہم یونہی سرشار بزمِ جاناں میں کہ پیر چرخ نے اک تیر تاک کر مارا نہ وہ زمیں ہی رہی پھر نہ آسماں وہ رہا بس اک خیال رہا یہ کہ خواب تھا سارا ہزار حیف کہ ایام کامرانی کے گئے اور ایسے اُڑے جیسے آگ سے پارا اُٹھا کے گردشِ ایام نے چمن میں سے بھنور میں قلم دنیا کے مجھ کو دے مارا نکل کے خُلد سے دیکھا تھا جو کہ آدم نے دکھا دیا وہی قسمت نے ہم کو نظارہ فريق بحرِ محبت تھا پر ہزار افسوس ہوا سراپ جہاں میں خراب و آوارہ نہ پوچھیں یا تو مرا حال قدسیان حرم جو پوچھتے ہیں تو یہ کچھ کریں چارہ کدھر گیا وہ زمانہ کہاں گئے وہ دن؟ بنا ہوا تھا دل زار عرش کا تارا نگاہیں ڈھونڈتی پھرتی ہیں بزم دوشینہ تڑپ ہے دل میں کہ دیکھے وہ لطف دوبارہ بجھی ہے آگ پڑی رہ گئی ہے خارکستر متاع کھو کے لٹا رہ گیا ہے بنجارا بیرونی دنیا کی حالت اے ساکنانِ حرم یعنی ! قادیاں والو سنو کہ رشک ارم ہے تمہارا گہوارہ تمہیں بھی علم ہے امن و امان کا اپنے؟ تمہیں خبر ہے کہ عالم کباب ہے سارا ہے چپہ چپہ اندھیرا - قدم قدم ٹھوکر مگر گھروں میں ہے روشن تمہارے مینار ہلاک ہو گئی دنیا پیاس کے مارے تمہارے باغ میں پر چل رہا ہے فوارہ