بُخارِ دل

by Other Authors

Page 83 of 305

بُخارِ دل — Page 83

83 قصہ ہجر۔ایک مہجور کی زبان سے قادیان کی زندگی اور بیرونی دنیا کے حالات کا مقابلہ ( ایا م سکونت قادیان) فراق کوچہ جاناں نے کر دیا افسوس جلا جلا کے مرے دل کو ایک انگارا کبھی وہ دن تھے کہ ہم بھی شریک محفل تھے ادھر تھا جام - اُدھر ساقی جہاں آرا کہاں وہ مجلس عُشاق حسن لاثانی کدھر وہ صحبت بزم نگار مه پاره ہمائے اَوج سعادت بدامِ ما بوده شراب وصل و تلاقی نصیب شد ما را خیال تک بھی نہ آتا تھا دل میں فرقت کا چڑھا تھا اتنا خُمارِ جمالِ دل آرا گھڑی گھڑی میں ترقی تھی علم کو میرے قدم قدم پہ عمل بھر رہا تھا طرارا مجھے نصیب تھا وہ بعد نفس و شیطاں سے کہ جیسے دُور ہے دنیا سے قطب کا تارا نہ رگرد میرے گلے کے تھا طوق مکروہات نہ مجھ کو رنج ومحن نے کیا تھا نا کارہ گناہ پاس پھٹکتا نہ تھا مرے دل کے خدا کے رحم سے مَغْلُوب نفسِ امارہ سُرور صُحبت ابرار ہر زماں حاصل کلام پاک کا ہر چار سمت نقارا نہاں تھا گنج قناعت خزانہ دل میں تھے میرے سامنے مفلس سکندر و دارا مری خوشی کی کوئی انتہا بتائے تو میں پیارا اپنے خدا کا، خدا مرا پیارا