بُخارِ دل — Page 85
85 مری زبان سے سنے کوئی اس مصیبت کو کہ تم سے ہو کہ جدا کس قدر ہوں دُکھیارا گناہ و نفس و شیاطین و صحبت بز نے درخت نیکی و تقویٰ پر رکھ دیا آرا نہ کوئی ناصح مشفق نہ خیر خواہ دلی ہمیشہ گھات میں دنیا کی زال مگارہ بندھا ہے قید مصائب میں بال بال مرا نہ تاب شور و فغاں ہے، نہ ضبط کا یارا تو اے کبوتر بام حرم چه میدانی طپیدن دل مرغان رشته بر پارا (الفضل 28/جنوری 1920ء) اللہ میاں کا خط میرے نام ایک چھوٹی بچی کے خیالات مریم صدیقہ کو حضرت میر صاحب محترم نے نظم بنا کر دی تو ان کی چھوٹی بہن امتہ اللہ نے بھی کہا کہ ابا میرے لئے بھی ایک نظم بنا دو۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے متہ اللہ کے لئے جونظم بنائی وہ ذیل میں درج کی جاتی ہے۔یہ ظم 29 دسمبر 1924ء کو کہی گئی تھی۔قرآن سب سے اچھا قرآن سب سے پیارا قرآن دل کی قوت قرآن ہے سہارا اللہ میاں کا خط ہے جو میرے نام آیا