بُخارِ دل

by Other Authors

Page 32 of 305

بُخارِ دل — Page 32

مرحبا! دارالامان 32 حالات قادیان دارالامان قادیاں مرحبا! جنت نشان قادیاں گھب گئی دِل میں ہر اک اُس کی ادا بس گئی آنکھوں میں شانِ قادیاں چرخ چارم اور ثریا کے رقیب ہیں زمین و آسمان قادیاں گلشن احمد میں آئی ہے بہار مہکتا بوستان قادیاں کوچه دلدار و دلبر ہے یہی آؤ اے گم گم گشتگانِ قادیاں تو تیائے چشم عالم بن گئی خاک پائے ساکنانِ قادیاں آفتاب حشر کی ہوگا پناہ روز محشر سائبان قادیاں دیکھنا چاہو جو دنیا میں بہشت دیکھ لو باغ جنان قادیاں طے کرا دیتی ہے سب راہِ سلوک پیر مغان قادیاں جائے ہجرت ہجرتیں کر کر کے جاتے ہیں وہاں عاشقاں و شائقان قادیاں بی۔اے، ایم۔اے اور فاضل مولوی بن گئے اب ساکنان قادیاں شور و شر سے دہر کے بھاگے وہاں بھا گیا امن و امان قادیاں جی نہیں لگتا کہیں اُس کا کبھی دیکھ لے جو آن بان قادیاں