بُخارِ دل

by Other Authors

Page 31 of 305

بُخارِ دل — Page 31

31 آه وہ در فراق قادیان دارالامان قادیاں قادیاں! جنت نشان قادیاں گھب گئی دل میں ہر اک اُس کی اُدا بس گئی آنکھوں میں شانِ قادیاں نعمت ایماں مئے عرفاں ملے عرش سے اُترا ہے خوانِ قادیاں چرخ چارم اور ٹریا کے رقیب ہیں زمین و آسمان قادیاں ہے جو بھی ہے پیر و جوان قادیاں عشق مولیٰ میں ہر اک رنگین توتیائے چشم ہے میرے لئے خاک پائے سارکنان قادیاں کر رہے ہیں جان و دل کو بے قرار نغمه ہائے بلبلان قادیاں جی کو تڑپاتی ہے اب میرے بہت یاد یار مهربان قادیاں پھر وہی رستہ مری آنکھوں میں ہے جس ہے نہر روان قادیاں ہوئے کوئے یار پھر آنے لگی مہکتا بوستان قادیاں یاد آتا ہے جمال رُوئے دوست ہے سروی خوبان و جانِ قادیاں وہ بھی دن ہوں گے کبھی مجھ کو نصیب میں ہوں اور ہو آستان قادیاں پھر میں دیکھوں کوچۂ دلدار کو پھر بنوں میں مہمان قادیاں یاد آتا ہے بہشتی مقبرہ سو رہے ہیں عاشقان قادیاں جاں فدا کر دوں مزار یار پر گوہر شب تاب کانِ قادیاں یعنی وہ جو چودھویں کے چاند تھے مهدی آخر زمان قادیان وارث تخت شہنشاہ رُسل مُورث نسل شہان قادیاں