بُخارِ دل — Page 33
33 زخم دشمن سے ہی پوچھا چاہیے تیزی شیخ و سنان قادیاں آب حیواں کو کہاں چکھتے ہیں وہ جو کہ ہیں تشنہ لبان قادیاں اہل قادیاں دل کو کر دیتے ہیں محو یادِ حق نغمه ہائے بلبلان قادیاں جاں نثار دین احمد ہیں سبھی جتنے ہیں مرد و زنان قادیاں عشق مولا میں ہر اک رنگین ہے جو بھی ہے پیر و جوان قادیاں صدق اور اخلاص اور ہر دم دعا ہے نشانِ مومنان قادیاں دوستی اللہ پاؤ گے یہیں بے ریا ہیں مخلصان قادیاں مشتری کا فائدہ فائدہ مد نظر رکھتے ہیں سب تاجران قادیاں دیکھنا، یورپ میں جا گونجی کہاں واہ کیا کہنے اذان قادیاں مرحبا تغیر مغرب کے لئے بہشتی مقبرہ نکلے ہیں کچھ خالدان قادیاں کیا مبارک ہے بہشتی مقبرہ سو رہے ہیں عاشقان قادیاں جاں فدا کر دوں مزار یار پر گوہر شب تاب کان قادیاں یعنی وہ جو چودھویں کے چاند تھے مهدی آخر زمان قادیاں وارث تخت شہنشاہ رُسُل مُورث نسل شہان قادیاں کر گئے تسخیر عالم کے قلوب سرور خوباں و جان قادیاں