بُخارِ دل — Page 148
148 تیرے ایمان کا جو ہے معیار جانِ من! وہ تری وصیت ہے بعد مرنے کے گر نہ زندگی ساری ہے ہو فردوس ہے۔۔۔ق۔نو برس میں ضرور پیدا ہو خدا کی بتائی مُدَّت ہے تین صدیوں میں صبح موعود محمد علی کی جدت ہے مضل جنگ طاعون زلزلے دیکھے پھر بھی عبرت نہیں ہے غفلت ہے يغض احمد - عدوات جنگ یا بھوج حملہ محمود یا شرارت ہے، یا حماقت ہے ماجوج ایک برپا ہوئی قیامت ہے آگ، گو لگ رہی ہے دُنیا میں قادیاں میں نُزول رحمت ہے مر کے جو ہر گھلیں گے انساں کے موت کی اس لئے ضرورت ہے موت کا دن ہے یومِ قرب و وصال جیسے ہوتی عروس رُخصت ہے سارے جاڑے کمر میں ہے زنار یہ میرے کفر کی علامت ہے کیوں ابھی سے نہ حق کے ہو جائیں آخر اُس کی طرف ہی رحلت ہے 1 یعنی بہشتی مقبرہ کی وصیت - 1 میں جاڑے بھر ایک گرم جبہ پہنتا ہوں جس میں بجائے بٹنوں کے ایک رسی ہوتی ہے جس سے وہ بندھا رہتا ہے۔اسے Night gown بھی کہتے ہیں۔اس رسی کو میں نے زنار کہا ہے۔