بُخارِ دل

by Other Authors

Page 110 of 305

بُخارِ دل — Page 110

110 وقت نرخ بالا کن کے ارزانی ہنوز۔۔(1)۔۔حسن لاثانی کا جلوہ دیکھ کر عشق فانی کی نہ کچھ عزت رہی لاکھ پردے ہوں، چُھپا سکتے نہیں اِس رُخ زیبا کی تیرے روشنی کیا ہوئے یہ جان و دل ہوش وحواس وائے تیری زُلف کی غارت گری وحی و الہام و گشوف و معرفت ہیں یہ سب رنگینیاں گفتار کی کس قدر محمور تو نے کر دیا! اے کلام یار کی افسوں گری پر، ہر قوم میں پیغامبر کتنی شفقت ہے مرے جاناں تری جس نے جو مانگا عطا اُس کو کیا کون ہے عالم میں تجھ جیسا سخی گنز مخفی تھیں تیری عالی صفات اُن کی عارف بر حقیقت کھول دی پر علم و دانش، اتقا، صبر و دُعا معرفت، محنت، تفکر ، عاجزی گھل گیا ان گنجوں سے جب وہ گنج فائدوں کی پھر نہ کوئی حد رہی کسے چوں مہربانی سے گنی از زمینی آسمانی مے تیرے احسانوں کا انداز و شُمار جانتا ہوں یا تو کچھ میں یا تو ہی قدر جوہر، قیمت لعل و گہر شاہ داند یا بداند جوہری پر کیا یہ سچ ہے یا فقط ہے دل لگی؟ ہر دو گنی عالم قیمت خود گفته نرخ بالا کن که ارزانی هنوز