بُخارِ دل

by Other Authors

Page 109 of 305

بُخارِ دل — Page 109

109 فضل سے اپنے وہ جنت کر عطا جس کو سب کہتے ہیں فردوسِ بریں ہو جوار حضرت احمد نصیب ہیں ہمارے تو وہی نعیم انگریں عبد الْحَقْنَا بِهِمُ کا پاس کر کچھ مزا اُن سے الگ رہ کر نہیں الْحَقْنَابِهِمُ پردہ پوشی دونوں عالم میں رہے تیری ستاری یہ رکھتا ہوں یقیں بے عمل اور طالب خُلدِ بریں آفریں اے جانِ مَن صد آفریں اور کیا دکھلاؤں گا اپنے عمل مانگنا تک تو مجھے آتا نہیں کیا کہوں اور کیا کروں میرے خدا آ گیا نزدیک وقت واپسیس خیر جو مرضی میں آئے کر سلوک چھوڑتا ہوں تجھ یہ سب دُنیا و دیں ہر کہ سر تا سر بود احسان و جود جز به نیکی هیچ ناید زاں حسیں تو تو خود واقف ہے میرے حال کا میرے مولا میں کسی قابل نہیں کیا نہ رحم آئے گا تیرا جوش میں؟ کیا پکاریں اپنی جائیں گی یونہیں مغفرت اے میرے مالک مغفِرت المدد! اے میرے خیر الناصریں میرے اِن الفاظ میں تاثیر ڈال اور اجابت سے انہیں کردے قریں یا الہی! اُس جو بھی مانگے دعا نازل کر قبولیت وہیں آمین (الفضل 23 دسمبر 1942ء) 1 حضرت میر صاحب کی یہ دعا قبول ہوگئی اور آپ 18 جولائی 1947 ء کو انتقال فرما کر جوار حضرت احمد میں دفن ہوئے۔(محمد اسمعیل پانی پتی )