بُخارِ دل

by Other Authors

Page 111 of 305

بُخارِ دل — Page 111

111 ·(2)۔یہ تری شوخی یہ انداز حرام یہ تیرے ناز و ادا یہ دھوم دھام اس قدر جُود و سخا لطف و کرم اس قدر عقل و خرد حکمت کے کام عرش سے تا فرش ظاہر ہیں تیرے دبدبه، صؤلث ، حکومت انتظام من اگر می داشتم بال و پرے می پریدم سوئے کوئے تو مدام علم کامل نکتے نکتے پر محیط ذرے ذرے پر ہے قدرت کی لگام اک طرف نعمت ، تو اک جانب علاج کس قدر انعام! کتنا انتقام حسن و خوبی، دلبری بر تو تمام صحبت بعد از لقائے تو حرام کہہ رہی ہے دلبری سے عاشقی ہر دو عالم قیمت خود گفته نرخ بالا گن بالا کن که ارزانی بوز ہنوز ذرہ ذرہ خلق کا تجھ پر (3)۔فنا لیک انساں سب سے بڑھ کر ہے فدا کر دیا اپنے وطن کو خیر باد عزیزوں کو خدا حافظ کہا تیری خاطر بیبیاں بھی ترک کیں اور بچوں تک کو قرباں کر دیا سلطنت پر لات ماری بے دھڑک دل میں تیرا عشق جب داخل ہوا دولت و املاک و عزت چھوڑ کر بن گئے در کے فقط تیرے گدا کوئی سمجھاتا تو فرماتے تھے یوں ما نمی خواهیم ننگ و نام را سر دیے لاکھوں نے تیرے نام پر کس خوشی سے جان تک کر دی فِدا