بُخارِ دل — Page 81
81 نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے جو شخص دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کر کے پھر بھی منزل مقصود کو نہ پہنچے تو اس سے زیادہ افسوسناک کس کی حالت ہوسکتی ہے۔ذیل کے اشعار میں بعض وجوہ اس ناکامی کی درج کی گئی ہیں۔مثلاً بعض گناہوں کا ترک نہ کرنا، یکسوئی کی کمی، استقلال کی کمی، دین کے ساتھ دنیا کی ملونی، فقر بانیوں کی کمی ، دُعا کی کمی وغیرہ وغیرہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان ٹھوکروں سے محفوظ رکھے آمین۔فریاد مرا دل ہے کباب خدا کی قسم مرا حال کہے۔نہیں تاب مجھے کھا گئی ہائے یہ آتش غم نہ خدا ہی ملا۔نہ نہ وصال صنم - نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے گناه گیا اُس کی تلاش میں سُوئے حرم رہِ شوق میں سر کو بنا کے قدم میرے بارِ گنہ نے کیا یہ ستم نہ خدا ہی ملا - نہ نه وِصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے عدم یکسوئی میرا اپنا ہی پائے ثبات ہے تم کبھی ذوق دھرم، کبھی شوق درم کبھی عشق خدا، کبھی عشق صنم نہ خدا ہی ملا۔نہ وصال صنم -