بُخارِ دل

by Other Authors

Page 82 of 305

بُخارِ دل — Page 82

82 ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ہم خدا خوا ہی و ہم دنیائے دوں نہ ہوئے ہیں نہ ہوں گے کبھی یہ بہم مگر ان کی تلاش تھی ایک ہی دم دھرے کشتیوں دو میں جو ہم نے قدم نہ خدا ہی ملا نه وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے ترک استقامت - رہے وہی ہوتا ہے مورد لطف و کرم جو نگار کے کوچے میں جاتا ہے جھم مرا صدق و وفا میرا عزم تھا کم نہ خدا ہی ملا ملا - نه وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے قربانی کی کمی نہ ہوا تھا کسی کے نثار قدم مراتن- مرامن- مرا دھن- مرادم ره وصل تھی راہ فتا و عدم نہ خدا ہی ملا۔نہ وصال صنم - نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے دعا کی کمی مرے رب ! میرے رب کرو مجھ پر کرم میرے تم ہی خدا۔میرے تم ہی صنم مددے! مددے !! چه کنم! چه گنم ! نہ پلاؤ گے شربت وصل۔تو ہم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے - (الفضل 14 /جنوری 1927ء)