بُخارِ دل

by Other Authors

Page 80 of 305

بُخارِ دل — Page 80

80 تَخَلُق به اخلاق باری“ بغائت عزیزو یہی دین کی ہے میں دنیا دیں کو مقدم کروں گا مجھے زالِ دُنیا سے کیا ہو گا حاصل تمع اور حسد اور جُملہ رذائل مرا علم باطل مری عقل زائل خدا اور بندے میں پردہ ہو حائل میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا اسے کوئی مل ڈالے پیروں کے نیچے تو چلتی ہے پھر آپ یہ اُس کے پیچھے جو دب جائے چڑھتی ہے سر پر اُسی کے مگر میں چلوں گا کہے پر نبی کے میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا اُدھر مال و دولت ادھر علم و حکمت اُدھر بے لگامی ادھر حق سے بیعت وہاں حُبّ فرزند و زن - جاہ و حشمت یہاں معرفت مغفرت اور جنت میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا جو دنیا پہ دیں کو کروں گا مُقدم تو وہ میرا دلبر وہ جانانِ عالم مقصود و مطلوب آبنائے آدم اُٹھا دے گا چہرے سے پردہ اُسی دم میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا وہ مجھےنفس وشیطاں سے یا رب بچانا جو کمزور ہو۔اُس کو کیا آزمانا - نہیں اپنا ورنہ کہیں بھی ٹھکانا - میرا عہد یہ۔خود ہی پورا کرانا کہ ”میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا (الفضل 7 جنوری 1927ء)