بُخارِ دل

by Other Authors

Page 54 of 305

بُخارِ دل — Page 54

54 ہو دعائیں احمد مرسل کی ساتھ استجابت کا جنہیں وعدہ تھا عام کامیابی ہر جگہ ہو ہم قریں عافیت سے ہو سفر کا اختتام دیا اللہ کے تم کو سپرد کر ہو وہی حافظ تمہارا والسلام سفر احباب پر ہوں رحمتیں دست و بازو ہیں جو شہ کے لاکلام لیا کرنا کبھی ہم کو بھی یاد ہیں پرانے ہم بھی اُس در کے غلام کچھ توجہ خاص ہو خدام پر اور دعا کا بھی رہے کچھ التزام اپنی حالت ہے دگرگوں آج کل ہے نجوم غم کا دل پر اثر دہام گو حیا سے منہ پر کچھ لائیں نہ ہم پر نہیں اس بات میں ذرہ کلام دیده عشاق و دل ہمراہ تُست تا نہ پنداری کہ تنہا کے روی سلر یورپ کی روانگی کے موقعہ پر 12 جولائی 1924 ء کو جبکہ بیت اصلی میں ایک کثر مجمع کے ساتھ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور آپ کے رفقائے سفر کا فوٹو لیا گیا۔یہ نظم اُس وقت حضور کے رو بروسنائی گئی تھی۔اور 15 جولائی 1924 ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔