بُخارِ دل — Page 53
53 سلسلے کے پیشرو ، مرکز کی جاں جانشین مہدی آخر زماں جا رہے ہیں سوئے یورپ اس لئے تا کہ پورے ہوں مسیحا کے نشاں منير لندن یہ پکڑیں کچھ طیور اور منار مشرقی پر دیں اذاں و مغرب کو کر دیں متحد اسود و احمر کو کر دیں ایک جاں منضبط تبلیغ کا کر دیں نظام تا نہ ہو محنت ہماری رائیگاں مشرق کچھ کریں لینے کا ان کے بندوبست زار کا سونٹا - بخارا کی کماں کنواں حبَّذا اے اہلِ یورپ کہڑا میزباں آتا ہے بن کر میہماں تشنہ آتا ہے کوئیں کے پاس خود یاں پیاسے پاس جاتا ہے تیرے جذب حق سے اے فضل عمر ایک دنیا آ رہی ہے قادیاں اے تماشا گاہ عالم روئے تو تو کجا بیر تماشا ے روی فی امان اللہ اے پیارے امام کسبک اللہ اسے شہِ والا مقام تشنہ لب ہیں اہلِ مغرب دین کے معرفت کا جا پلاؤ اُن کو گا تم ہی سے ہو : جام انصرام اُٹھو اُٹھو اے بنی فارس! اٹھو کام گاڑ دو جا کر علم توحید کا قصر تنگیثی کا کر کے انہدام حق تعالیٰ کی حفاظت ساتھ ہو اور ملائک کا رہے سایہ مدام نصرتیں اللہ کی ہوں ہم رکاب اور زیادہ ہو عُروج و اخترام بحر و بر کے ہر سفر میں آپ کے خضر راہ ہوں حضرت خیر الانام