بُخارِ دل — Page 150
150 کرتا ہوں اک حسین کے ہاتھوں قبول موت خوشیوں سے شادشاد مُسرت سے جُھوم جُھوم ہر گز نہ میرد آنکه دلش زنده شد بعشق کو شد شہید - و کرد بجان جہاں لزوم زنده ست نام گنبد خضرا ز عشق یار نوبت زند به گنبد افراسیاب یوم واجب ہے آفتاب نبوت کا انتظار گرتے ہوں جب شہاب ممکڈ ز ہوں جب نجوم احمد جری“ نے جملہ مذاہب کے پہلوان اس طرح سے بھگائے کہ پسپا ہوا بجوم دیکھا یہ ہم نے بزم مسیحا میں عمر بھر آہ و بکا کا شور تھا یا ربنا کی دُھوم اک آگ سی لگا گیا بس رات رات میں اُس یار کا قدوم کہ تھا میمنت لزوم تو ہند میں بھی اُس کیلئے ہے دُعا میں سُست جس پر دُرُوڈ پڑھتے ہیں ابدال شام و رُوم 1 رات سے مراد حضرت مسیح موعود کی لیلۃ القدر یعنی آپ کا زمانہ۔