بُخارِ دل — Page 151
151 دوزخ ہے ہجر یار تو دنیا ہے بے ثبات جنت ہے کوئے یار - مری اصل زاد یوم قر بانیوں کے جوش میں تن کا نہیں ہے ہوش کہتا ہے کوئی ہم کو جھول اور کوئی ظلوم اغدا کی مسجدوں سے نکل آئے خود ہی ہم واں لغو کچھ رُسُوم تھیں، یا وقف کی رقوم ایمان و عشق دیکھ کہ ہیں جمع ایک جا وہ خلج قلب اگر ہے۔تو یہ آتش سموم ساماں ہم اپنا لائے جو تکنے کو حشر میں کچھ ذکر وفکر عشق تھا۔کچھ درد اور ہموم الفت کی برکتیں تھیں کہ صد گونہ بڑھ گئے زباد کے فنون ހނ عشاق کے علوم یا رب میری دُعائیں ہمیشہ قبول ہوں اور حشر میں نہ کیجیو شرمندہ اور مَلُوم آمین (الفضل 24 / مارچ 1943ء)