بُخارِ دل — Page 49
49 روئے تاباں کو میرے یار کے دیکھے تو کوئی مسکراہٹ ہے وہی چہرہ خنداں ہے وہی وسیلۂ درگاہ الہی دوستو امو دہ کہ اک خضر طریقت کے طفیل پھر مرے دل میں رواں پشمہ حیواں ہے وہی اس وسیلہ کے سوا وصل کی صورت ہی نہ تھی قاصد بارگہ حضرت ذیشاں ہے وہی میرا کیا منہ ہے کہ تعریف کروں اُس کی بیاں مہدی وقت ہے وہ عیسی دوراں ہے وہی گشته ملا اُس کے ملنے سے ہمیں شاہد گم آستانے کا شہ حُسن کے درباں ہے وہی حمد ذات باری تعالیٰ میرا محبوب ہے وہ جانِ جہانِ عشاق اُس سے جو دُور رہا قالب بے جاں ہے وہی عالم کون و مکاں نور سے اُس کے روشن نغمہ ساز وہی، بوئے گلستاں ہے وہی ذرے ذرے میں کشش عشق کی جس نے رکھی مالک جسم وہی روح کا سُلطاں ہے وہی رنگ سے اُس کے بہے نیرنگی عالم کا ظہور گرمی و رونق بازار حسیناں ہے وہی دل جو انساں کو دیا، دردِ محبت دل کو قبلہ دل ہے وہی درد کا درماں ہے وہی جس نے آواز سُنی - ہو گیا اُس کا فیدا دیکھ لے جلوہ تو سو جان سے قُرباں ہے وہی خود تو جو کچھ ہے سو ہے، نام بھی اُس کے پیارے تی و قیوم وصمد - ہادی و رحماں ہے وہی عشق میں جس کے رقابت نہیں وہ یار ہے یہ جس پہ بن دیکھے مریں لوگ یہ جاناں ہے وہی لاکھ خوشیاں ہوں مگر خاک ہیں بے وصل نگار قرب حاصل ہے جسے کم و شاداں ہے وہی