بُخارِ دل

by Other Authors

Page 50 of 305

بُخارِ دل — Page 50

50 حت دنیا بھی نہ ہو خواہش عظمی بھی نہ ہو جز خدا کچھ بھی نہ ہو طالب جاناں ہے وہی ٹھوکر سے بچو نفس امارہ جسے کہتے ہیں از باب نظر راہِ الفت میں بس اک خار مغیلاں ہے وہی جس سے یہ نبوان وسفاک بھی مغلوب نہ ہو یار کی راہ سے گم گشتہ و حیراں ہے وہی دعا اب تو دل میں ہے فقط ایک تمنا باقی آرزو صرف وہی خواہش وائز ماں ہے وہی درگہ قدس سے قائم رہے رشتہ اپنا لیکن اس کا بھی اگر ہے۔تو نگہباں ہے وہی تقنہ جامِ محبت کی دُعا ہے اس سے ساقی میکدہ محفلِ منتاں ہے وہی ق آپ دیتے نہ تھکیں اور میں پیتے بچھکوں میرے شایاں ہے یہی آپ کے شایاں ہے وہی ہاتھ پکڑا ہے تو اب چھوڑ نہ دینا لله مدتوں دُور رہا جو یہ پشیماں ہے وہی سچ تو یہ ہے کہ سبھی میری خطا تھی ورنہ اپنے بندوں پہ کرم آپ کا ہر آں ہے وہی ہم تو کمزور ہیں پر آپ میں سب طاقت ہے جو بھی مشکل ہے نہیں آپ کو آساں ہے وہی لِلَّهِ الْحَمد ميان من و أو صلح فتاد حوریاں رقص کناں ساغر شکرانه زدند ( مطبوعہ رسالہ رفیق حیات جلد 4 نمبر 3 بابت مارچ 1921ء صفحہ 5 تا10) 1 كالذي استهوته الشيطين في الارض حيران