بُخارِ دل — Page 290
290 وہ اپنی دھن میں تھی کہ ادھر یہ غضب ہوا اک دن برادری نے بُلا کر اسے کہا کس طرح بیوگی یہ کٹے گی تیری بھلا؟ بہتر ہے تیرے واسطے گھر اپنا تو بسا دیور تیرا کماؤ ہے اور نوجوان ہے خاوند مردہ کا ترے وہ اک نشان ہے اصرار سے وہ کنبے کے مجبور ہو گئی تجویز اس بیاہ کی منظور ہو گئی جتنی برادری تھی وہ مسرور ہو گئی گلفتِ فراق پیڑے کی سب دُور ہوگئی شادی کا پھر تو ہونے لگا خوب اہتمام دلہن بھی خوش تھی اور تھا دولہا بھی شاد کام شادی میں ایک ماہ کا جب فاصلہ رہا سامان سب بیاہ کا تیار ہو چکا مشہور اس کا شہرہ ہوا جبکہ جا بجا اتنے میں آ کے غلہ یہ گریاں میں لگا لڈو ہے نہ تھے کہ میاں پیڑے آ گئے آتے ہی طور بدلے ہوئے یاں کے پا گئے گھر آ کے سب ہی بگڑے ہوئے دیکھے اُس نے ڈھنگ اس بیوفا نے پیچھے کھلائے تھے جو کہ رنگ ہونے کو ہے بیاہ یہاں ایک اور سنگ اس بے مروتی و بد عہدی سے ہو کے تنگ کھائی قسم کہ ہونے نہ دوں بیاہ تو سہی کی تو نے جیسی مجھ سے۔کروں گا میں تجھ سے بھی اک دن اکیلا پا کے نہالی سے یوں کہا اے نیک بخت میری حقیقت کوئن ذرا رخصت میں تجھ سے ہو کے سفر پر تھا جب گیا جاتے ہی اک امیر کے ہاں سیندھ دی لگا