بُخارِ دل — Page 289
289 گئیں اگلی سی پھر وہ صحبتیں تیار ہو خوابیدہ خواہشیں جو تھیں بیدار ہو گئیں اب کے نصیب جس کے کھلے وہ تھا ایک چور پیڑا تھا اُس کا نام مگر تھا حلال خور تھا شورشوں سے اُس کی زمانہ میں ایک شور ٹکر کا اُس کی ملتا نہ تھا کوئی شاہ زور لاٹھی اُٹھا کے مارے تو بھینسا ہو ادھ مُوا دن رات یا شراب تھی، چوری تھی، یا جوا لالا کے اس نے خُوب ہی اس کو کھیلا یا مال پورا کیا ہر ایک جو اس نے کیا سوال پوشیدہ دل میں جتنے تھے از ماں دیے نکال آخر گزر گیا اسی حالت میں ایک سال افسوس پر کہ دہر کو آیا نہ خوش یہ طور کرنے لگا رقیبوں کی مانند ظلم و جور ایک روز کا سناؤں تمہیں میں یہ ماجرا پیڑے میاں کو ایک سفر پیش آ گیا جاتے ہوئے وہ مل کے نہالی سے کہہ گیا مجھ کو نہ اپنی یاد سے دیجو ذرا بھلا اور عہد لے لیا کہ میں واپس جب آؤں گا تیرے ہی ساتھ ان کے شادی رچاؤں گا القصہ وہ تو چھوڑ کے اس کو چلا گیا دل اس بیچاری غمزدہ کا یاں جلا کیا مدت تک نہ اس کا لگا کچھ بھی جب پتا آخر کو تنگ ہو، اُسے دل سے بھلا دیا چاہا کہ اور کوئی لگے ہاتھ اب شکار موچی ہو، نائی ہو، کہ وہ چوڑھا ہو یا چمار