بُخارِ دل — Page 284
284 لاد کر لے گئے شفا خانے فرض اپنا کیا پولس نے ادا ماجرا اب وہاں کا بھی سنئے قاضی صاحب یہ حال جو گزرا پاس پیسہ نہ تھا جو دینے کو ناغہ ہوتی تھیں پتیاں اکثر کسی کا نہ کر سکے میٹھا نہ دوا تھی روئی اور کپڑا جاں بحق ہوگئے وہ گل سڑ کر قصہ یوں آپ کا تمام ہوا ہے فقط محبت دکھاوے کی اہلِ دنیا کا ہے یہی شیوہ قاضی صاحب کا ایک بیٹا تھا بن گیا وہ پولس کا داروغہ باپ کا بنا ڈالا ہو گیا وہ امیر رشوت سے مَقْبُره کروا دیے کئی قرآں اور فقیروں کو خوب کھلوایا جتنے ملا تھے شہر میں سب کو جوڑا اور نقد تحفہ بھیجا پھر بڑے اہتمام سے ہر سال قاضی صاحب کا عُرس ہونے لگا ٹوٹنے لگی خلقت پیر قاضی کا نام چل نکلا قبر پر بن گئے مفت میں وہ قطب اور غوث اور کرامت کا بج گیا ڈنکا قبر پچنے لگی بجوش و خروش بن گئے شہر کے خدا گویا نصف شب کو مگر مزار میں سے سنتے ہیں سب کہ کوئی ہے گاتا محبت فقط دکھاوے کی ہے اہل دنیا کا ہے یہی شیوہ (رہنمائے تعلیم نومبر 1943ء)