بُخارِ دل

by Other Authors

Page 283 of 305

بُخارِ دل — Page 283

283 مزاحیہ کلام دکھاوے کی محبتیں قاضی صاحب کی جب مری لونڈی شہر کا قاضی صاحب مگر مرے جس دن نظر آئی کہیں نہ محبت فقط دکھاوے کی ہے شہر کا شہر پوچھنے آیا اہل دنیا کا ہے یہی شیوہ نه بزم عزا قاضی صاحب کی ایک تھی بیٹی اپنی گڑیا کا اُس نے بیاہ کیا لڑکی والوں کے ہاں تھا آدھا شہر باقی آدھا براتیوں میں تھا آخر اک دن قضائے ربی قاضی صاحب کا انتقال ہوا ނ بعد کچھ دن کے اُن کی بیٹی کا آدمی ایک بھی ہے موجود کا ایک مفلس سے ہو گیا رشتہ کسمپرسی میں ایسا عقد ہوا محبت فقط دکھاوے کی اہل دنیا کا یہی شیوه قاضی صاحب کی ایک کتیا تھی پیر میں اُس کے چھ گیا کانٹا پھر تو بیمار پرس خلقت کا تین دن تک بندھا رہا تانتا چھن گیا عہدہ قضا، افسوس کچھ دنوں بعد قاضی صاحب کا اترا شحنہ کہا گیا اُن کو نام ”مردک" رکھا گیا اُن کا چھکڑے سے اتفاقاً پھر پاؤں چلا گیا بیچارے کا کچلا