بُخارِ دل

by Other Authors

Page 207 of 305

بُخارِ دل — Page 207

207 حضرت مولوی بُرھان الدین جہلمی ایک تھے جہلم میں رہتے مولوی بر ہان دین جو حواری ابتدائی حضرت احمد کے تھے ایک دن جب سیر سے حضرت ہوئے واپس تو وہ احمد یہ چوک میں یوں آپ سے کہنے لگے اپنی حالت ہے عجب کمزور اے میرے حضور احمدی بن کر بھی ہم بھڑوں کے جھڑ ہی رہے کہہ کہ پنجابی میں یہ الفاظ پھر وہ رو دیے حضرت مہدی تسلی اُن کی گوکرتے رہے تھے اگر چہ سلسلہ کے سابقون لا ولون پر ہمیشہ وہ ترقی کے رہے پیچھے پڑے وجی محق نے اُن کو شہتیر جماعت تھا کہا پھر بھی اپنے حال پر نادم تھے اور حیران تھے ی جائے عبرت ہے کہ مجھ سا بے عمل اور نا بکار جو کہے کچھ اور کرے کچھ۔مطمئن پھر بھی رہے اُن کو تھی ہر دم تڑپ ، قرب الہی کی لگی اور ہم بستر میں لیٹے کروٹیں ہیں لے رہے آگ تھی دل میں، نہ تھا اُن کو کہیں آرام و چین جان جائے حق کی راہ میں بس یہی تھے چاہتے ”اے خدا، بر تربت أو ابر رحمت باببار آنکه بود از جان و دل قربان رُوئے دلبرے مرحبا! کیسے تھے احمد کے یہ اصحاب کبار احمدیت کیلئے سب کچھ ہی قُرباں کر گئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مدارج ہوں نصیب حق تعالیٰ اُن سے خوش ہو، مغفرت اُن کی کرے (الفضل 17 اکتوبر 1943ء) 1 مولوی صاحب 1886ء سے بھی پہلے کے تعلق رکھنے والوں میں تھے۔( تذکرہ صفحہ 137) 2 قریباً اصل الفاظ 3 دو شہتیروں کے ٹوٹنے کا الہام ان کے اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے مشہور تھا۔