بُخارِ دل — Page 208
208 محبت مجھ پہ اے جان! چھا گئے ہو تم دل میں میرے سما گئے ہو تم پھرتے رہتے ہو میری آنکھوں میں جب سے جلوہ دکھا گئے ہو تم قلب ویراں میں مہماں رہ کر اُس کو کعبہ بنا گئے ہو تم کان ہیں جن سے اب تلک مسحور ایسے نغمے سنا گئے ہو پھول جھڑتے تھے منہ سے باتوں میں کیسی نکہت اڑا گئے ہو تم ہو کے فکر و خیال پر حاوی دین و دنیا پھلا گئے ہو تم ہو ذہن سے جو کبھی اُتر نہ سکے ایسا نقشہ جما گئے آب رحمت کے ایک چھینٹے سے میرا دوزخ بجھا گئے ہو تم نقش شرک و دوئی مرے دل سے اپنے ہاتھوں مٹا گئے عشق شاید اسی کو کہتے ہیں اک لگن جو لگا گئے ہو ڈال کر اک نظر محبت کی مجھ سا بگڑا بنا گئے ہو تم (الفضل 18 /نومبر 1943ء) عقل بغیر الہام کے یقین کے درجہ کو نہیں پہنچا سکتی فقط اتنا کہتی ہے عقلِ سلیم کہ دُنیا کا کوئی خدا چاہئے یہ کہ موجود ہے وہ ضرور سو اُس کو تو وحی خدا چاہئے مگر یقیں کے لئے عقل کافی نہیں یہاں تو کلامِ خُدا چاہئے الہام ہی نے تو ثابت کیا خدا ہے۔نہ یہ کہ خُدا چاہئے (*1943)