بُخارِ دل — Page 122
122 علاج دردِ دل تم ہو، ہمارے دلر با تم ہو تمہارا مدعا ہم ہیں، ہمارا مُدعا ثم۔مری خوشبو، مرا نغمہ، مرے دل کی غذا تم ہو ہو مری لڈث ، مری راحت ، مری بحث ،شہائم ہو میرے دلبر، مرے دلدار، گنج بے بہا تم ہو صنم تو سب ہی ناقص ہیں فقط کامل خدائم ہو مرے ہر درد کی ، دُکھ کی ، مصیبت کی ، دوائم ہو ر جائم ہو، غنائم ہو، شفائم ہو، رضاتُم ہو بفا میں ہوں، وفاتم ہو، دُعا میں ہوں، عطا تم ہو طلب میں ہوں، سکائم ہو، غرض میرے پیا تم ہو جرا دن تم سے جگمگ ہے مری شب تم سے سے تھم تھم جرے شمس الہی تم ہو میرے ہا ر الہ ہے تم ہو سُجھائی کچھ نہیں دیتا، تمہارا گر نہ ہو جلوہ کہ دل کی روشنی کم ہو ، اور آنکھوں کی نیا تم ہو ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لا علمی وہ علامُ الْغُيُوبِ اور واقِفِ سِر وفا تُم ہو