بُخارِ دل

by Other Authors

Page 123 of 305

بُخارِ دل — Page 123

123 بہت صیقل کیا ہم نے جلا دیتے رہے ہر دم که تا اس دل کے آئینے میں میرے رُوٹھا تم ہو کہاں جائیں؟ کدھر دوڑیں کسے پوچھیں کہاں پہنچیں بھٹکتوں کو سنبھالو، ہادی راہِ ہدی تم ہو تم ہی مخفی ہو ہرئے میں تم ہی ظاہر ہو ہرئے میں ازن کی ابتدا تم ہو، ابد کی انتہا تم ہو اَلَسْتُ پُشتِ آدم میں کہا تھا جس کو وہ میں تھا سنا قول لکی جس نے وہ میرے ربنا تم ہو تباہی سے بچا کر گود میں اپنی مجھے لے لو که فانی ہے یہ سب دنیا، بس اک رُوحِ بقائم ہو میں شاکر گر ہوں نعمت کا ، تو صابر بھی مصیبت پر کہ الفت کی جزائم ہو، محبت کی سزائم ہو ہر اک خُوبی میری فیض خداوندی کا پرتو ہے ثر دحکمت، بصیرت، معرفت، ذہن رساتُم ہو میر ا ہر جا کہ مے بینم ، رخ جاناں نظر آید حیات جسم، نورِ رُوح، عالم کی ضیا تم ہو لگا یا عشق ہم سے خود تو پھر ہم بھی لگے مرنے تمہارے مُبتدا ہم تھے، ہمارے مُنتہا تم ہو