بُخارِ دل

by Other Authors

Page 51 of 305

بُخارِ دل — Page 51

51 دعائے وصل عرض یوں کرتا ہے محبوب اذن سے خاکسار اے شہنشاہِ زمین و آسمان و ہر دو وار جو بھی خوبی ہے جہاں میں سب تمہارا فیض ہے کان حسن و پشمہ احساں تم ہی ہواے نگار اک نظر فضل و کرم کی اس طرف بھی پھیر دو ٹکی باندھے کھڑا ہے در پہ اک اُمیدوار اے میرے سورج ! دکھا دو پھر اُسی انداز سے وہ چمک اور وہ دمک اور وہ جھمک اور وہ بہار پھر خرام ناز سے دیجے وہی جلوہ دکھا پھر اُسی لطف و ادا سے کیجئے دل کو شکار اُس شب تاریک پر صد مہر و مہ قرباں کروں جس کی ظلمت میں جھلک اپنی دکھا دے وہ نگار آئینہ حائل تھا مجھ میں اور رخ دلدار میں لے ورنہ کب کا راکھ ہو چکتا یہ تن پروانہ وار اے میرے دلبر مرے جاناں میرے دل کے سرور ایک ہے تم سے دُعا میری یہ باصد انکسار گشتیۂ حسن و ادا و ناز پر ہو اک نظر مدتوں سے یہ پڑا ہے بے کفن اور بے مزار زندگی میں تو ترستا رہ گیا آغوش کو مرگیا ہے۔اب تو کر لیجے ذرا اس سے پیار چادر مبر ومروت میں اسے دیجے لپیٹ گوشئہ چشم محبت میں اسے لیجے اُتار ایک تفخ رُوح کر کے اُس کو پھر زندہ کریں اور بسر یہ زندگی ہو از پیئے رضوان یار وصل کی گھڑیاں میسر ہوں ہمیں ہر روز و شب دُور ہوں فضلوں سے تیرے ہجر کی شب ہائے تار آمین (1921) 1 ایک کشف کی طرف اشارہ ہے جو الفضل 3 نومبر 1936 ء میں شائع ہوا۔