بُخارِ دل — Page 52
52 تودیع حضرت خلیفہ مسیح ثانی برموقع سفر یورپ از جانب اهل قادیان دارالامان اے شہ کولاک کے لختِ جگر! اور ہماری آنکھ کے نور نظر اے کہ تم ہو جان و دل روح رواں چھوڑ کر ہم کو چلے ہو خود کدھر ہم نہیں واقف فراق یار سے ہجر کے دن کس طرح ہوں گے بسر دل پھٹے جاتے ہیں سب احباب کے دیکھ کر تیاری رختِ سفر حال اپنا کیا بتائیں آپ کو کیا دکھائیں کھول کر قلب و جگر کاش خاموشی ذرا ہوتی فصیح کاش رکھتیں کچھ اثر چشمان تر کاش سوز اندروں دیتا دھواں کاش دُودِ آہ آ سکتا نظر کاش آدم زاد ہوتا غیب داں کاش دل کو دل کی کچھ ہوتی خبر کاش ہوتے ہجر کے درد آشنا وصل میں جن کی کئی شام و سحر آہ کیا جانیں حال عاشقی وہ شان محبوبی میں جن کی ہو بسر ایک مرضی حق کی جب دیکھی یہی کر لیا ہم نے بھی پتھر کا جگر آپ کے دل پر بھی ہے فرمائیے کیا جدائی کا ہماری کچھ اثر ؟ سرو سیمینا! بدریا ئے روی نیک بے مہری! کہ بے مامی روی