بُخارِ دل

by Other Authors

Page 40 of 305

بُخارِ دل — Page 40

40 خوش قسمتی پر آپ کی کرتے ہیں رشک ہم کہتے ہیں دل ہی دل میں یہ آنسو بہا بہا یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا ہم مجھو نالہ جرس کارواں رہے 66 دعا اے آنکہ میرے واقف اسرار ہو تم ہی دلبر تم ہی نگار تم ہی یار ہو تم ہی کوئی نہیں جو رنج و الم سے کرے رہا یاں دل شکن بہت ہیں پہ دلدار ہو تم ہی دروازہ اور کوئی بھی آتا نہیں نظر جاؤں میں کس طرف کو جو بیزار ہو تم ہی تم ساکسی میں حُسنِ گلو سوز ہے کہاں عالم کی ساری گرمئی بازار ہو تم ہی لینے کا اس متاع کے کس کو ہے حوصلہ لے دے کے میرے دل کے خریدار ہو تم ہی اعمال ہیں نہ مال۔نہ کوئی شفیع ہے اب بات تب بنے جو مددگار ہو تم ہی تم سے نہ گر کہوں تو کہوں کس سے جا کے اور اچھا ہوں یا بُرا۔میری سرکار ہوتم ہی اب لاج میری آپ کے ہاتھوں میں ہے فقط ستار ہوتم ہی مرے، غفار ہو تم ہی درماندہ رہ گیا ہوں غضب تو یہی ہوا کیجیے مدد! کہ چارہ آزار ہو تم ہی یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا - ہم محجو نالہ جرس کارواں رہے 66 (الفضل 4/نومبر 1920ء)