بُخارِ دل — Page 39
39 مُفْلس ہے یا امیر تجھے عذر کچھ نہیں گھلتی اگر یہ جیب تری بار بار ہے تو سلسلہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے یاد رکھ پڑتا ہے آ کے تجھ پہ ہی آخر جو بار ہے دنیا اگرچہ تجھ کو سمجھتی رہے حقیر پر آج تیرے پیسوں پر دیں کا مدار ہے چندے سے تیرے مدرسے اور مسجدیں بنیں اور تیری ہمتوں کا نتیجہ منار ہے جتنی ہیں شاخہائے نظارات و انجمن اور جتنا سلسلہ کا یہ سب کاروبار ہے فَضْلِ خدا سے تیری کمائی کے ہیں مز یہ خاص تجھ پہ پشم عِنایات یار ہے اولا دو مال و عزت و املاک دے دیے پھر بھی سمجھ رہے ہو کہ باقی اُدہار ہے پر کیف ہم سے کوئی بھی خدمت نہ ہوسکی اب صرف چشم پوشی پر اُس کی مدار ہے بہتیرا چاہتا ہوں کہ میں چپ رہوں مگر آتا زباں پہ شعر یہی بار بار ہے یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا ہم مجو نالہ جرس کارواں رہے مرحومین 66 اے سارکنانِ مقبرہ تم پر ہو مرحبا مرکز بھی تم ہوئے نہ درِ یار سے جدا دے دے کے نقد جان خریدا یہ قرب خاص سودا - قسم خدا کی، یہ ستا بہت کیا جنت ملے گی ایک تو اللہ کے یہاں اور دوسری بہشت یہ پہلو ہے یار کا یاں کچھ خبر نہیں کہ جگہ بھی ہو یہ نصیب یا گر ملے تو حد سے زیادہ ہو فاصلہ